اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سعودی عرب کی اسپیشل فورسز، یمن میں سابق صدر منصور ہادی اور ان کے حامی القاعدہ کے دہشتگردوں کی بھر پور حمایت کررہی ہیں- سعودی عرب کے ایک فوجی مشیر نے دعوی کیا ہے کہ آل سعود کی فوج اور بحری فوج کے کمانڈوز، یمن میں خاص مشن پر مامور ہیں جبکہ اسپیشل فورسز عدن میں منصور ہادی کے حامی دہشتگرد گروہوں کو ہتھیار، مواصلاتی آلات اور فوجی ساز و سامان فراہم کررہی ہیں- آل سعود کے اس اقدام سے لگتا ہے کہ اس نے یمن کے ایک حصے میں اپنی بری فوج داخل کردی ہے- ادھر امریکہ میں آل سعود کے سفیر عادل الجبیر نے کہا ہے کہ عدن میں سعودی عرب کی فوج نہیں ہے- مغربی ممالک بالخصوص امریکی صدر باراک اوباما نے یمن پر سعودی عرب کی جارحیت کے شروع ہونے کے بعد سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ٹیلیفوں پر گفتگو میں یمن پر آل سعود کی جارحیت کی حمایت کی تھی- یمن کی فوج اور تحریک انصاراللہ سے وابستہ عوامی کمیٹیوں نے عدن میں سابق صدر منصور ہادی کی تخریبی کاروائیوں کے پیش نظر اس شہر کی طرف پیش قدمی کی تاکہ صوبہ عدن کو سابق صدر کے دہشتگرد حامیوں خاص طور سے القاعدہ کے تکفیری دہشتگردوں سے نجات دلاسکے- عدن کی طرف تحریک انصاراللہ کی پیش قدمی کے بعد آل سعود اور اسکے پٹھو اتحادیوں نے امریکہ کی اجازت سے یمن پر وسیع پیمانے پر فضائی حملے شروع کردیئے- عدن، یمن کا نہایت اسٹریٹجک ساحلی شہر ہے- یمن پر حملہ کرنے سے سعودی عرب کا مقصد، سابق صدر منصور ہادی کو دوبارہ اقتدار میں لے کر آنا ہے لیکن یمن کے انقلابی عوام، اس بات کے مخالف ہیں- قطر اور متحدہ عرب امارات بھی سعودی اہداف کی حمایت کرتے ہوئے اسکی جارحیت میں شامل ہوگئے ہیں۔ القاعدہ اور داعش کو قطر اور امارات کی جانب سے فوجی اور اسلحہ جاتی امداد، عدن میں سعودی طیاروں کے ذریعے پہنچائی جارہی ہے جو یمن کے انقلابی عوام کا قتل عام کرنے میں مشغول ہیں-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲